ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بڑے جانوروں کا ذبیحہ بند ، انسدادگؤ کشی آرڈیننس سختی سے نافذ کرنے حکام کو ہدایت -آرڈیننس کے خلاف عدالت میں عرضی داخل

بڑے جانوروں کا ذبیحہ بند ، انسدادگؤ کشی آرڈیننس سختی سے نافذ کرنے حکام کو ہدایت -آرڈیننس کے خلاف عدالت میں عرضی داخل

Thu, 07 Jan 2021 11:05:16    S.O. News Service

بنگلورو،7؍جنوری(ایس او  نیوز)انسداد گؤ کشی قانون کو ریاست کی بی جے پی حکومت کے آرڈی نینس کے ذریعے نافذ کرنے کے فوری بعد شہر بنگلور اور ریاست بھر کے مذبح خانوں میں کام کرنے والے محکمہ مویشی پالن کے عملہ اور شہروں کے بلدی اداروں کی نگرانی میں چلنے والے مذبح خانوں کے نگران افسروں کو یہ حکم جاری کردیا ہے کہ جمعرات 7جنوری سے ان مذبح خانوں میں نئے قانون کے مطابق ممنوعہ کسی مویشی کے ذبیحہ کی اجازت نہیں دی جائے گی-

شہر بنگلورو میں کے سب سے بڑے اور مویشیوں کے واحدذبیحہ خانے میں جو ٹیانری روڈ پر واقع ہے، وہاں واضح طور پر مویشیوں اور گوشت کے تاجروں  سے کہہ دیا گیا ہے کہ چہارشنبہ کو جانوروں کے ذبیحہ کا آخری دن ہو گا اور جمعرات سے وہاں صرف ان بھینسوں کے ذبیحہ کی اجازت دی جائے گی جو 13سال سے زیادہ عمر کی ہوں اور اس کیلئے ذبح خانے سے جڑے وٹیرنیری آفیسر کی طرف سے اجازت لازمی ہو گی-تاجروں اورجمعیت القریش کے رہنماؤں نے اس موقع پر محکمہ مویشی پالن کے اڈیشنل ڈائرکٹر سے گزارش کی کہ جو مویشی شہر میں یا ذبیحہ خانے پہنچ چکے ہیں ان کے ذبیحہ کی اجازت دے دی جائے اس کی ان افسروں نے اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جمعرات کی صبح10بجے کے بعد سے ممنوعہ مویشیوں کو ذبح کرنے نہیں دیا جائے گا-

اس دوران اب تک اس قانون کی مخالفت کرنے والی مسلم اور دلت تنظیموں نے حکومت کی طرف سے آرڈی نینس کی شکل میں اسے نافذ کرنے کی کوشش کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورکہا ہے کہ اس ضمن میں ماہرین قانون سے مشورہ کیا جا چکا ہے اورانہوں نے اس کیلئے عدالت میں پیروی کرنے کا تیقن دلایا ہے- کر ناٹک جمعیت القریش بیف مرچنٹس اسوسی ایشن کے صدر قاسم اعجاز قریشی نے بتایا کہ جمعیت نے عدالت میں اس معاملے کی پیروی کرنے کیلئے ریاست کے سابق ایڈوکیٹ جنرل روی ورما کمار سے گزارش کی ہے اورانہوں نے اس کیلئے رضامندی ظاہر کردی ہے دوسری طرف مختلف دلت تنظیموں کی طرف سے دائر عرضی کی پیروی کیلئے سابق اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ایم اے پونپا کی خدمات لی گئی ہیں -

عدالت میں چیلنج: اس دوران حکومت کی طر ف سے جاری اس آرڈی نینس کو ہائی کورٹ میں شہر کے معروف وکیل رحمت اللہ کوتوال نے چیلنج کرتے ہوئے عوامی مفاد عرضی داخل کی ہے- اس عرضی کو سماعت کیلئے داخل کرتے ہوئے اس سلسلہ میں ریاستی ایڈوکیٹ جنرل کو اس کا نوٹس بھی جاری کردیا ہے- رحمت اللہ کوتوال نے بتایا کہ عدالت سے انہوں نے گزارش کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اس عرضی کی سماعت کی جائے جس کو عدالت نے منظور کرلیا ہے اور امیدہے کہ ایک دو دن میں ہی اس کو سماعت کیلئے بینچ پر لا یا جائے- انہوں نے کہا کہ اپنی مفاد عامہ عرضی میں انہوں نے انسداد گؤ کشی آرڈی نینس کے جواز کو آئین کی دفعہ19کی صریح پامالی قرار دیتے ہوئے اس کا چیلنج کیا ہے- انہوں نے بتایا کہ اس آرڈی نینس کی طرف سے صرف گوشت خور طبقہ ہی نہیں بلکہ ریاست کے کسانو ں کو سنگین مشکلات کا سامنا کر نا پڑے گا اس لئے اس قانون کو کالعدم قرار دینے کی انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے-


Share: